حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ سید ضیاء الحسن نجفی نے جامع علی مسجد لاہور میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں کہا ہے کہ احادیث میں دنیا کی مذمت کی گئی ہے اور اس کی محبت کو فتنہ قرار دیا گیا ہے، البتہ اگر دنیا آخرت کا ذریعہ ہو تو اس کی مدح بھی کی گئی ہے، لیکن جب دنیا اتنی راسخ ہو جائے کہ آخرت کی فکر ہی نہ رہے تو اس تعلق کی مذمت کی گئی۔
انہوں نے کہا انسان کی نیت ہی اس کے عمل کا عنوان بنتی ہے، اگر نیت بہترین ہے تو عمل بھی اچھا ہوگا، لیکن اگر اچھے عمل کی نیت اچھی نہ ہو مثلا ًریاکاری ہو تو عمل قابل مذمت بن جاتا ہے، جبکہ معصوم کا فرمان ہے کہ اپنے آپ کو گم کریں گے تو اللہ آپ کو سر بلند کر دے گا۔
علامہ ضیاء الحسن نجفی نے نجف اشرف کے فقیہہ اہل بیت مجتہد آیت اللہ محمد اسحاق الفیاض کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے علمی حلقوں میں بہت بڑا خلا قرار دیا، جسے پورا نہیں کیا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ فقیہ عالم کی موت سے ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جو کبھی پر نہیں ہوتا، لیکن علم باقی رہنے والی چیز ہے، جبکہ مال ختم ہونے والا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام علوم اپنی جگہ پر اہمیت رکھتے ہیں لیکن سب سے اشرف علم فقہ ہے۔ مرحوم آیت اللہ محمد اسحاق الفیاض نجف اشرف کی سرزمین سے تعلق جوانی کا ہے، وہ 1930 میں افغانستان میں پیدا ہوئے، وہاں سے کوئٹہ پاکستان تشریف لائے۔ اب بھی ان کی اولادیں کویٹہ میں موجود ہیں۔ مرحوم عظیم فقیہ اسلام آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم خوئی رحمتہ اللہ علیہ کے برجستہ شاگردوں میں سے تھے۔









آپ کا تبصرہ